آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معین اختر
Poet: Haji Abul Barkat,poet By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachiمعین اختر ، معین اختر ، معین اختر ، معین اختر
کل بھی تیرا چرچہ تھا آج بھی چرچہ ہے گھر گھر
جواں دلوں کا رنگیلا بھیا ، بوڑھے دلوں کا البیلا پسر
وہ تھا سورج مکھی اور گلاب ، کشش تھی جس میں چار پہر
جو کاٹ رہا ، بد اخلاقی کا اور رہا تریاق زہر
ہم پاگل بن کر ڈھونڈ تے ہیں ، وہ گیا کدھر وہ گیا کدھر
ہر روپ کو اصلی روپ دیا ، اس فن کو دیکر خون جگر
تہذیب و تمدن ساتھ لئے ہر رنگ دکھا یا ، گیا جدھر
جتنی شہرت پہلے تھی اس سے بھی سوا ہو تیری قدر
معین اختر ، معین اختر ، معین اختر ، معین اختر
×××××××××××
٢٢ اپریل ٢٠١١ کو حرکت قلب بند ہونے سے کمیڈین معین اختر
کا ناتقال ہوگیا تھا آج ہم ان کی برسی منا رہے ہیں۔بس اسی عظیم
مذاحیہ فنکار کے نام گوگل ویب سائٹ کے ہماری ویب کی نذر۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






