آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا
Poet: Tabatabai By: imran, khiآ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا
ہائے اے پیر مغاں کیا ہوگا
باغ جنت میں سماں کیا ہوگا
تو نہیں جب تو وہاں کیا ہوگا
خوش وہ ہوتا ہے مرے نالوں سے
اور انداز فغاں کیا ہوگا
دور کی راہ ہے ساماں ہیں بڑے
اتنی مہلت ہے کہاں کیا ہوگا
دیکھ لو رنگ پریدہ کو مرے
دل جلے گا تو دھواں کیا ہوگا
ہوگا بس ایک نگہ میں جو تمام
وہ بہ حسرت نگراں کیا ہوگا
ہم نے مانا کہ ملا ملک جہاں
نہ رہے ہم تو جہاں کیا ہوگا
مر کے جب خاک میں ملنا ٹھہرا
پھر یہ تربت کا نشاں کیا ہوگا
جس طرح دل ہوا ٹکڑے از خود
چاک اس طرح کتاں کیا ہوگا
یا ترا ذکر ہے یا نام ترا
اور پھر ورد زباں کیا ہوگا
عشق سے باز نہ آنا حیدرؔ
راز ہونے دے عیاں کیا ہوگا
More Islamic Poetry






