ابھی نہ اُٹھاو میرا جنازہ لوگو شاہد وہ آ جائیں
Poet: M.Masood By: M.Masood, Nottinghamابھی نہ اُٹھاؤ میرا جنازہ لوگو شاید وہ آ جائیں
تھوڑی دیر کر لو انتظار لوگو شاید وہ آ جائیں
اُس کو خبر نہ ملی ہو ابھی شاہد میرے مرنے کی
میرا منہ کفن سے نہ ڈھانپو لوگو شاید وہ آ جائیں
اُٹھا تو لیا ہے میرا جنازہ مہربانی ذرا آہستہ چلو تم
اتنی جلدی بھی نہ کرو ابھی لوگو شاید وہ آ جائیں
آخری حسرت ہے میری لے چلو اُس کی گلی سے تم
ممکن میرے جنازہ کو کندھا دینے شاید وہ آ جائیں
اُتار تو دیا ہے مجھے قبر میں ذرا ٹھہر جاؤ مسعود
مٹی ڈالنے میں کچھ تو دیر کرو لوگو شاہد وہ آ جائیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






