اتنا نازک ہو تعلق تو نبھاؤں کیسے
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian-gujratاتنا نازک ہو تعلق تو نبھاؤں کیسے
دیار محبت کو میں چھوڑ نہ آؤں کیسے
سورج کی شعائیں بھی رہیں سہمی سہمی
میں نفرت کے اندھیروں کو بجھاؤں کیسے
چھپا رکھا ہے لٹیروں سے سب مال و متاع
امیر کارواں مگر تم سے چھپاؤں کیسے
گوشہ دل سے ہمیں تلخی کے سوا کچھ نہ ملا
تو ہی بتا پھر تجھے بھول نہ جاؤں کیسے
چھائے ہیں ظلمتوں کے اندھیرے چار سو
روشنی کے لئے گھر کو نہ جلاؤں کیسے
ملا جو خاک میں مظہر تو صدا آتی ہے
شہر خاموشاں میں اب اسے ستاؤں کیسے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






