اداسی
Poet: kanwal naveed By: kanwalnaveed, karachiجیون سفر میں کیا کیا گزرا سفر کا ہم سے حال نہ پوچھو
دل پر اپنے کیا کیا بیتی دل سے کوئی بھی سوال نہ پوچھو
دنیا داری میں غرق سارے بہت نبھالی ہم نے قرابت داری
زخم لگا کر نمک لگانا لوگوں کاہے کیا کیا کمال نہ پو چھو
ہم تم ہیں ہم سفرایسے جیسے سمندر کے ہو ں کوئی دو کنارے
مل کر بھی تم سے کبھی نہ ملنا،دل کو کیسا ہے ملال نہ پوچھو
ہر بلندی کی قیمت ہے ہوتی یوں ہی نہیں کوئی منزل کو پاتا
تمہاری بلندی پر نظرہے تو پھر وہ ابتداٗ کا زوال نہ پوچھو
شکستہ جسم ،زخمی پاوں کھلا آسمان اورامید ہے تم سے
رُح پروہ پھوار کا عالم باطن کے لیےتھی کیا ڈھال نہ پوچھو
اک تلخ حالت، انتظار کا عالم پھر تمہارا اس قدر دیر سے آنا
اس وقت میں ہر اک لمحہ کیسے لگ رہا تھا ایک سال نہ پوچھو
سونپا ہے تم کو وجود اپنا تو جو چاہو کرو تم تمہاری مرضی
چاہت تمہاری ہے تمنا میری، مجھ سے میرا خیال نہ پوچھو
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






