اس شہر کی ہواؤں میں
Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpindiاس شہر کی ہواؤں میں ھیں میرے دل کی صدائیں
فلک پہ چھا جائے جیسے گھنگھور گھٹائیں
وہ ہم نواں ہے تو کیوں پردوں میں چھپا ہیں
جانتا ہے کہ اب کھو گئ ہیں سب میری ادائیں
میں تو اپنوں کی بھئڑ میں چلتی رہی تنہا
جب ہوش آیا تب ملی مجھے ہی سزائیں
احساسات سے میرے کھیلے ھیں لوگ ہزاروں
جو دل پہ لگا تیر تھی اسی کے ہاتھہ اس کی کمانیں
چشم نم کا قصہ سناؤں تو کیسے سناؤں
آئے ہیں پھر خواب رات سجانے
ہم نے کھولا در خود ہی کر دیا بند اپنا
معلم تھا کہ وہ آے گے پھر ہم کو رولانے
یذداں سے کیا جو ذکر ہم نےاپنا
تبھی پھر لوٹ آئی قہر ہم کو بہلانے
ہزاروں بہتان سجا کر اپنے دامن پہ
میں کیسے نکلوں خود کو سب سے بچانے
ثریا وہ مقام ہے جس پر ہے خود خدا کا بسیرا
کیوں چلے آتے ہیں پھر شام سے سبھی خوشیں چرانے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






