اس گلشن کو تو اجڑے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadاس گلشن کو تو اجڑے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
یہاں حالات کو بدلے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
کبھی ہوتے تھے قدموں میں کلیوں کے ڈھیر لیکن
اب خشک پتوں کو اٹھائے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
بڑی تیز آندھیاں چلیں سب کچھ اڑا کر لیں گئیں
آنسو بھی اب بہائے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
آئے بھی تو بڑی دیر سے تم مانگنے روشنی
میرے دل کو تو جلے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
ڈرنا کیا لوٹنے سے بربادی کا خوف کیا
ہم کو تو تباہ ہوئے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
آیا خیال کیسے تجھے زخموں کا آج میرے
مجھکو تو یوں تڑپتے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
پوچھنے آئے ہو ساجد کس سے زمانے کی خبر
ہمیں خود کو ڈھونڈتے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






