اشک بہا کر تجھے بدنام کریں اتنے بھی ہم غافِل نہیں
Poet: نواب رانا ارسلان By: نواب رانا ارسلان, Ismailabad, Umerkotاشک بہا کر تجھے بدنام کریں اتنے بھی ہم غافِل نہیں
مانا کے کمزوریاں ہیں پر تیرے معاملے میں ہم کاہِل نہیں
زمانے کے سامنے خوش رہنا تو اک بہانہ ہے
ایسا تو نہیں ہے کہ ہم شکستِ دِل نہیں
محبت میں شکستِ دل تو اک لمبی کہانی ہے
یہ نصیب کی بات ہے تُو میری خوشیوں کا کاتِل نہیں
زندگی میں تو ہمیں اِس بات کا ملال رہا
جو چاہا وہ ملا نہیں، جو ملا اُس کے ہم قابِل نہیں
ہم سے ہمارے حال پہ کوئی سوال نہیں پوچھتا
سوال تو بہت ہیں، لیکن کوئی سائِل نہیں
سنو جانا تم خوش تو ہو نہ رقیب کی بستی میں
سُنا ہے وہاں کسی کو کوئی مسائل نہیں
تیرا نام نہیں لیتا ارسلان مگر ایسا بھی نہیں ہے
تیرا ہجر میرے بیانِ سُخن میں نہ ہو ایسی کوئی محفِل نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






