التجاء
Poet: Syed Akabar Hussain Shah By: Syed Akabar Hussain Shah, Rawalpindiزندگی کے شب و روز میں تم روز مجھ سے ملا کرو
جو میں پھر سے تم کو خفا کروں تو جائز ہے مجھ سے گلہ کرو
میں پھر سے تنہا ہوں دشت میں، میرے سر پہ دست کرم دھرو
میں اب وہی ہوں “چاند“ سا! مجھ پہ تھوڑا رحم کرو
تیری پاکدامنی کی قسم مجھے، جو مجھے تجھ پہ ذرا بھی گمان ہو
تو میری حیات ہے بخدا، نہ مجھ کو خود سے جدا کرو
جانتا ہوں مجبور ہو! یہ امتحان عشق ہے
تجھے واسطہ میری جان کا، میری مشکلوں کو وا کرو
تیری راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں تو ہٹا انہیں
میں نے خود کو تجھ پہ لٹا دیا، مجھے اسکا تھوڑا صلہ دو
اس وقت بھی کئی لوگ ہیں جو روکتے ہیں بے وجہ
تجھے مجھ پہ پورا یقین ہے، تم ان کی نہ سنا کرو
اکابر کو دعا ہے ماں کی یہ نہ زندگی میں ہارے کبھی
میں تم کو جیت لوں جہان سے، تم میرے لئے دعا کرو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






