امی
Poet: Ijaz Kashmiri By: Ijaz Kashmiri, Chinaآنکھیں پھر سے کیوں ہیں لال امّی
پھر کس بات کا ملال امی
جانے والے لوٹتے کہاں ہیں
کیوں ہو آج پھر نڈھال امّی
زندگی کے یہ ایسے مت گزاریں
باقی جو ہیں ماہ و سال امّی
عظمٰی، عائشہ بھی اور مریم
جب ہیں،ہو کیوں پھر بے حال امّی
خوش رہ سکتا ہوں میں گر رہیں آپ
کر دیں نا یہ بھی کمال امّی
بالکل بھی نہیں ہے اچھا یہ جو
رکھا ہے بنا کے حال امّی
بہتر ہے یہ، لائیں ذِہن میں اب
خوش رہنے کا کوئی خیال امّی
خوش خوش آپ ہوں میں جب بھی دیکھوں
کوئی نہ رہے سوال امّی
دیکھا نہ تھا غم کا شائبہ تک
کر لیے کیسے اب حلال امّی
ہم سب کے لیے خوش رہ کے ہی اب تو
قائم کر ہی دیں مثال امّی
ہم بے نُور ہو نہ جائیں کہ آپ
ہم سب کا ہی ہیں جمال امّی
اب اعجاز بھی ہے ملتمس کہ
غم کا نہ ہو احتمال امّی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






