انجان کھڑی ہوں
Poet: سعدیہ اعجاز By: Sadia Ijaz Hussain (IH), Lahore, University of Educationسوچ کے ستن میں, میں اک لپٹی ہوئی تصویر
اک دیوار کی مانند ,میں انجان کھڑی ہوں
اک بے چین سی روح ہوں , اک خاک ِنشیں ہوں
کبھی دستک ,کبھی گمان, کبھی حسرت کی کلی ہوں
اک آئینہ میں کھڑی , میں بے جان سی مورت
دل کی گہرایوں میں ،بہت ویران سی پڑی ہوں
اک گلستان کی ماند ،میں پھولوں سے سیراب
پر اسی گلشن کی جبیں پے, میں ویران سی پڑی ہوں
جو خوش ہوں , تو میں ہوں مہتاب کی ماند
جو افسردہ ہوں, تو میں غمگین ستاروں کی چمک ہوں
ہے انجان سا سفر اور میں انجان نگر میں
میں سعدیہ ٓ خود سے ہی انجان کھڑی ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






