انجمن ضیاے طیبہ کراچی کے لیے تہنیتی نظم
Poet: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi By: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi, Hyderabadہے ضیاء الدین مدنی کی جو بے شک یادگار
انجمن ضیاے طیبہ کی انوکھی ہے بہار
انجمن در انجمن پھیلے ضیاے سنیت
اور دلوں میں جاگزیں ہو جائے فکرِ رضویت
سب کے دل میں مصطفیٰ سرکار کی توقیر ہو
اور پراگندہ ذہن کی دوستو! تطہیر ہو
انجمن میں سلسلہ جاری ہے سارا پیار کا
درسِ قرآن و حدیث و فقہ کی مہکار کا
وعظ و ارشاد و نصیحت کی سجائے محفلیں
انجمن پھیلارہی ہے کیسی نوری تابشیں
ہے کتابوں کی اشاعت کا یہاں پر نظم خوب
اہلِ باطل ، دشمنِ دین انجمن سے ہیں مرعوب
ہے یہی حرفِ دعا لب پر مُشاہدؔ کے سجا
انجمن پائے ترقی از پَے فیضِ ضیا
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






