ان کی محفل ہے، یہاں رنگ دکھا اور بھی کچھ
Poet: Allama Pir Syed Naseer ud Din Naseer Gillani (Golra Shareef) By: Khalid Roomi, Rawalpindi ان کی محفل ہے، یہاں رنگ دکھا اور بھی کچھ
اے دل داد طلب ! رقص میں آ اور بھی کچھ
خون آنکھوں سے بہانا ہے پرانا کرتب
شعبدے ان کو ذرا کھل کے دکھا اور بھی کچھ
جب بھی دیکھوں ، مجھے دشنام دیا کرتے ہو
بات آتی ہے تمہیں اس کے سوا اور بھی کچھ ؟
صرف پھولوں کی صباحت پہ نہیں میری نظر
کہہ گئی ہے مرے کانوں میں صبا اور بھی کچھ
مجھ کو تسلیم تری سحر بیانی قاصد !
صرف باتیں نہ بنا ، کام دکھا اور بھی کچھ
آگ دب جائے، ذرا سینے میں ٹھنڈک تو پڑے
مجھے کہہ لیجئے سرکار ! برا اور بھی کچھ
سادگی تو مرے رہزن کی یہ دیکھے کوئی
لوٹ کر پوچھ رہا ہے کہ بچا اور بھی کچھ ؟
عام لوگوں کی زباں پر شہ خوباں ہی نہیں
کہہ رہی ہے تجھے مخلوق خدا اور بھی کچھ
جب بھی ساقی نے مجھے پوچھ لیا ہنس کے نصیر !
چوم کر جام وہیں میں نے کہا اور بھی کچھ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






