ان کی ہر بات ہی اردو میں سند ہے حد ہے
Poet: احمد عقیل By: Adnan, karachiان کی ہر بات ہی اردو میں سند ہے حد ہے
میرا لکھا ہوا ہر لفظ ہی رد ہے حد ہے
نذر تشکیک نہ کر پاک نگاہی کو مری
تجھ سے ملنا بھی کوئی خواہش بد ہے حد ہے
ہر نئے پنچھی کو اڑنے نہیں دیتی دنیا
ہر کسی دل میں بھرا کینہ و کد ہے حد ہے
مجھ کو دیکھا جو سر بزم تو منہ پھیر لیا
اپنے وعدوں سے یہ اعراض عمد ہے حد ہے
پہلے خود ہی مرے خوابوں کو سبوتاژ کیا
اب ضرورت ہے مری اور اشد ہے حد ہے
یوں تو احباب کی تعداد زیادہ ہے مگر
اتنی مشکل میں رسد ہے نہ مدد ہے حد ہے
قیس کے در کا میں سجادہ نشیں ہوں لیکن
لوگ کہتے ہیں کہ تو اہل خرد ہے حد ہے
More Islamic Poetry






