اُجالا کس طرح سے ہو گیا ادھر
Poet: Junaid Atari By: Sag-e-Attar Junaid Atari, Chakwalاُجالا کس طرح سے ہو گیا ادھر
یہاں تو روشنی لایا نہیں تھا
میں سمجھوتے کے ہاتھوں جان بوجھ کر
اُسے کہہ بھی کبھی پایا نہیں تھا
نہ سوئی ماں اسی مَدیَد خیال میں
کہ بیٹا تو ابھی آیا نہیں تھا
نہ پوچھو زندگی کیسے گُزاری
کسی نے رحم تک کھایا نہیں تھا
یقیں مانو ترے ملنے سے پہلے
کبھی گھر دیر سے آیا نہیں تھا
مُجھے بھیجا خُدا نے اِس جہاں میں
میں مرضی سے یہاں آیا نہیں تھا
نہ جانے اُس مکاں میں کیا بَلا تھی
جدھر کوئی گیا آیا نہیں تھا
تُجھے تو سامنے بھی دیکھ کر میں
نظر اپنی اُٹھا پایا نہیں تھا
زمانہ جِس کے پیچھے ہو گیا خوار
مُجھے وہ حسن تو بھایا نہیں تھا
ہم اِک دن ملتے ملتے یُوں بچھڑ گئے
نکل ارمان بھی پایا نہیں تھا
اچانک پھر مُجھے یاد آ گیا وہ
جسے برسوں بُھلا پایا نہیں تھا
کمائی سب لُٹا کر بھی جُنید تُو
خرید اِک بھی خُوشی پایا نہیں تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






