اِک ایک کرکے سارے۔۔۔
Poet: طارق ھاشمی By: Tariq Hashmi, Montrealاِک ایک کرکے سارے اُٹھا لئے وقت نے
چہرے سبھی کہ تھے، وجہِ رونقِ زمیں
ہجومِ عا شقاں ہے، محمل کے پار، لیکن
آیا نہیں ہے قیس، اب تک ، نظر کہیں
جَب تک ہے ، تیری ہستی، تہِ پردۂِ مجاز
پہنچے، دَرِ یقیں پہ، کیسے، مِر ا یقیں
تخمِ چشم ہو، کیسے، پھل دار کہ ، ابھی تک
میر ا دِل بنا نہیں، تیری ذات کا، امیں
درِ شباب ، یارَب، کیوں گُمشدہ رہا، تُو
بنجر رہی کیوں، اُس دَم ، میرے دِل کی یہ زمیں
تنگ پڑ گئیں جو وسعتیں، تیری حقیقتوں کو
دامانِ دِل میں، پھر یہ، جاگُزیں ہوئیں
کیسے کروں میں افشاء، ترے رازِ لامکاں کو
ہے ظن کی وادیوں میں، ابھی میر ا یقیں
نہ رہا کبھی میں ، یارَب، دَر گرفتِ ہا ماں
پھر تنگ کیوں ہے مجھ پہ، تہِ آسماں، زمیں
خاکِ جہاں سے مجھ کو ، آزاد کردے ، یارب
ہر نفسِ ہستی میرا، بے تاب کر دے ، یارب
پاؤں جو گَردِ راہ کو، زنجیرِ پا اپنا
مرا جُرمِ ہستی اُس دَم ، اک خواب کردے، یارب
پاؤں جَہاں میں ہر دَم ، تیری عظمتوں کے موتی
اُس بَحرِ بے کَنار کا، گرداب کردے، یارب
طیبہ کی وادیوں میں برسنا ہے، جِس کو جا کے
محمود مجھ کو اِیسا، سحاب کردے، یارب
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






