آئینہ
Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: Mirza Abdul Aleem Baig, Hefei, Anhui, Chinaآئینہ بھی اب بولنے لگا ہے
جب بھی میں گزرتا ہوں اپنے کمرے سے
آتے جاتے مجھ سے پوچھتا ہے
یہ مجھ سے باتیں کرتا ہے
یہ میرے حالات پہ نکتہ چینی کرتا ہے
بلکل ایسے جیسے وہ جائزہ لے رہا ہو میرا
’کہاں گئی وہ مُسکراہٹ تیری؟‘
’ تیرے ماتھے پر شکن گہرے کیوں ہیں؟‘
’آنکھوں کی شرارت کدھر گئی؟‘
’وہ منچلا سا دل کہاں رہ گیا؟‘
کبھی تو بے تکلفی سے پوچھتا ہے
’ایسا کیا ہے جو کھو گیا ہے؟‘
’کوئی تجھ سے روٹھ گیا ہے؟‘
’کیسی کا انتطار ہے کیا؟‘
’کوئی دل توڑ گیا کیا؟‘
’کوئی تنہا چھوڑ گیا کیا؟‘
’کیسی کے وعدے ستاتے ہیں کیا؟‘
’کیسی کی بے وفائی تڑپاتی ہے کیا؟‘
اس آئینے کو بہت خاموش کروایا
چپ تو ہو جاتا ہے مگر دیکھتا رہتا ہے
خدا جانے یہ آئینہ اتنا پوچھتا کیوں ہے؟
خدا جانے یہ آئینہ اتنا بولتا کیوں ہے؟
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






