اپنی ذات سے کیسے نکلوں
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiنہیں جانتی اپنی ذات سے کیسے نکلوں
کیو نکہ بہت مشکل ہے خود سے جدائی
روز روز ہے میرا خود سے جھگڑا
روز اپنی ہی عدالت میں سنوائی
عجب عجب سے رشتے ناتے
اپنا اپنا حق ہیں جتاتے
کبھی ہنساتے تو کبھی رولاتے
جب بھی اپنے پاس بیٹھاتے
یہاں سچ اور جھوٹ گلے ملے ہیں
پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی کھلے ہیں
یہ کیسے جذ بے ہیں ذات میں اپنی
ہم سر سے پاوں تک ہلے ہیں
نہ ہم کسی کے نہ کوئی ہمارا
زندگی کو میسر نہیں کوئی کنارہ
ہاتھ پکڑ لیتے ہیں مگر یقین نہیں آتا
سب کچھ ذات میں کیوں بدل نہیں جاتا
ہم ہوں کسی کے کاش کوئی ہو ہمارا
جیون کو میسر ہو اب کوئی سہارا
وفا کے موسم نہ محبت کی وادی
گزر چکی ہے زندگی مگر آدھی
نہ خاموشی بن پائی نہ صدا کسی کی
کبھی اپنے لیے تو کبھی سزا کسی کی
کبھی پہاڑ جیسی ہوں تو کبھی برف سی پگھلوں
نہیں جاتنی اپنی زات سے کیسے نکلوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






