اپنے ماضی کے تصوّر سے
Poet: .. By: Sumera Ataria, GUDDUاپنے ماضی کے تصوّر سے ہراساں ہوں میں
اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بیکار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں
اپنی بےسود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے
میرے ماضی کو اندھیرے میں دبا رہنے دو
میرا ماضی میری ذلّت کے سوا کچھ بھی نہیں
میری امیدوں کا حاصل، میری کاوش کا صلہ
ایک بےنام اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
کتنی بےکار امیدوں کا سہارا لے کر
میں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر
کتنی بےربط تمناؤں کے مبہم خاکے
اپنے خوابوں میں بسائے تھے کسی کی خاطر
مجھ سے میری محبت کے فسانے نہ کہو
مجھ کو کہنے دو کہ میں نے ’’انہیں چاہا ہی نہیں‘‘
اور وہ مست نگاہیں، جو مجھے بھول گئیں
میں نے ’’ان مست نگاہوں کو سراہا ہی نہیں‘‘
مجھ کو کہنے دو کہ میں آج بھی جی سکتا ہوں
عشق ناکام سہی، زندگی ناکام نہیں
انہیں اپنانے کی خواہش، انہیں پانے کی طلب
شوقِ بےکار سہی، سعیِ غم انجام نہیں
وہی گیسو، وہی عارض، وہی نظریں، وہی جسم
میں جو چاہوں تو مجھے اور بھی مل سکتے ہیں
وہ کنول جن کو کبھی ’’ان کے لیے کِھلنا تھا‘‘
ان کی نظروں سے کہیں دور بھی کِھل سکتے ہیں
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






