اک لمحے کو ہجر و وصال کے سارے موسم
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIبہت دنوں کے بعد اُسے
اک محفل میں دیکھا تھا
اک لمحے کو ہجر و وصال کے سارے موسم
آنکھوں میں لہرا سے گئے
دل میں چراغ سے جل اُٹھے
اس سے گلے ملنے کے تصّور سے ہی
جیسے سارا وجود
پُھول کی صُورت کِھل اُٹھا
اُن ہاتھوں کے لمس کو سوچ کے
سارا جسم سُلگ اٹھا
اُن ہونٹوں کی گرم گلابی نرمی کا خوش رنگ خیال
ہونٹوں پہ مسکا اُٹھا
حلقۂ یاراں سے آخر
میری طر ف وہ بھی آیا بھی
میری جانب دیکھا بھی
پر جو کہا تو اتنا کہا
آپ سے مِل کر خوشی ہوئی
میرے صحنِ دل میں اچانک ہونے والی
پت جھڑ سے یکسر لا علم
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






