اگرچہ کوئی میرا یار نہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreاگرچہ کوئی میرا یار نہیں
مجھے بھی کوئی سروکار نہیں
میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
مجھے اقرار ہے انکار نہیں
کسے دیکھیں کسے نہیں دیکھیں
وہ کون ہے جو بے قرار نہیں
سبھی کو اپنی فکر دامن گیر
کسی کو بھی یہاں قرار نہیں
کہاں جاؤ گے صاحبو ! بچ کر
یہاں سے کوئی راہ فرار نہیں
میرے رقیب جو چاہو سو کرو
کوئی شکوہ کوئی تکرار نہیں
ہر ایک حساب باک کر دیا ہے
کسی پہ اب کوئی ادھار نہیں
اگر سمجھو تو سب تمہارے ہیں
یہ نہ کہو کوئی دلدار نہیں
تمہیں عظمٰی گمان کیوں ٹھہرا
کوئی تمہارا غم گسار نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







