ایسا بھی کیا ممکن ہے
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiایسا بھی کیا ممکن ہے
کہ خود سے پیار جتائیں بھی
خود کو سوچیں مسکرائیں بھی
دل سے غم کے بادل ہٹا لیں
خود کو پاس بٹھائیں بھی
ایسا بھی کیا ممکن ہے
کہہ لیں دل کی بات سبھی
جو کہہ سکے ہوں نہ کبھی
خود کی خواہشیں خود کو سنائیں
دل میں جو ہوں برسوں سے دبی
ایسا بھی کیا ممکن ہے
ہم روئیں اور ہاتھ سہارا دے
روح ہمیں حقائق کا نظارہ دے
تھک ہار کے جب بیٹھے ہوں
تحریک خودی ہمیں دوبارہ دے
ایسا بھی کیا ممکن ہے
جھوٹوں میں سچا بن کہ رہے
معصومیت میں بچہ بن کر رہے
کوئی کیسا ہی برا بن کہ ملے
دل کنول مگر اچھا بن کر رہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






