ایسا کیوں ہوتا ہے
Poet: کنول نوید By: کنول نوید, karachiایسا کیوں ہوتا ہے
ایسا کیوں ہوتا ہے
کہ اداسی ختم نہیں ہوتی
نہ پھولوں کی مہک آتی ہے
نہ دن کا اجالا دیکھ پائیں
نہ شامیں حسین لگتی ہیں
نہ راتوں سے کچھ سیکھ پائیں
ہم مسلسل اداس رہتے ہیں
ایسا کیوں ہوتا ہے
کہ اجنبی چیرے زندگی کا حصہ بنتے ہیں
پھر اک گزرا قصہ بنتے ہیں
پھر کچھ بھی نہیں رہتے
بہہ جاتے ہیں پانی سنگ
انکھیں پھر کہانی سناتی ہیں
کہ کوئی گزرا ہے اس راستے سے
چھین کر چہرے کی ہنسی
اب کبھی نہیں لوٹے گا
ایسا کیوں ہوتا ہے
دل سے اکثر پوچھتی ہوں
جب اور جتنا سوچتی ہوں
کیوں کوئی مالک بن جاتا ہے
کٹپتلی سا ہنساتا رولاتا ہے
کوئی جواب نہیں ملتا
کوئی پتہ نہیں ہلتا
مگر خدا کی مرضی سے
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا کیوں ہوتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






