ایک مکالمہ (میں اور میرا محسن)
Poet: Waqas Ashraf By: Waqas Ashraf , Lahoreمحسن:
خدارا مان جاؤ وقاص دیار یار چلتے ہیں
طبیب شہر کہتے ہیں بیماری جان لیوا ہے
وقاص:
ارے ٹھرو تو میرے محسن کہاں کی بات کرتے ہو
میں کوچے یا ر سے ہی تو گریبان چاک لایا ہوں
محسن:
ترس کھاؤ اپنے حال پر وقاص۔ مریض عشق ٹھرے ہو
دیدار یار کر لو تم۔ یہی اک نسخہ آخری ہے
وقاص:
دیدار یار کی باتیں نہ چھیڑو ایسے تم محسن۔۔
طبیب وہ اعلئ ٹھرے ہیں۔ کسی سے بھی نہیں ملتے
ایک مکالمہ میرے اور میرے محسن ک درمیان۔ میرا محسن میری حالت دیکھ کر مجھے میرے محبوب کے دیدار کا مشورہ دیتا ہے مگر اسے کیا خبر کہ یار نے ہی یہ حال کیا۔۔۔
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






