اے میرے ندیؔم
Poet: ندؔیم مراد By: NADEEM MURAD, Pietermaritzburgچنچل تھی صبا
مہکی تھی فضا
رنگین تھے گل
تنہا تھی سزا
مخمور بدن
بیکل سا چلن
تھا ہجر کہ وصل
تھا کس کو پتا
دکھ بھی تھا خوشی
آنکھوں کی نمی
خوشیوں کا تھا غم
کیا عشق ہوا
بہکی بہکی
باتوں کی کمی
یہ روگ ہے یا
الفت کا نشہ
پھر کہنے لگا
مجھ کو میرا
اپنا سایا
کھویا کھویا
نم پیراہن
آنکھیں ساون
کیا ہجر کے غم
کا ہوں مارا
دوری اتنی
اچھی جتنی
تیرا چنری
سے جھلنا ہوا
لمحوں کا چلن
لگتا ہے قرن
اور جلتا نہیں
بن تیرے دیا
باقی ہے جو غم
اس میں نہیں دم
اے میرے ندیؔم
اب تو آجا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






