اے ہوا میرے درد کی سدا لیتی جا
Poet: anam By: anam, karachiاے ہوا میرے درد کی سدا لیتی جا
جہاں سب نے آزمایا ہے توں بھی
میرے عشق کا امتحان لیتی جا
جا کہہ دے پھول بہاروں سے
دلکش خسین نظاروں سے
کوئی بہت تنہا رہتا ہے
تنہائی میں آہیں بھرتا ہے
زبان جہاں کے لئے
میرے عشق کی داستاں لیتی جا
جا کہہ دے بہتی آبشاروں سے
بجھتی آگ کے انگاروں سے
کوئی ہر پل بہت اداس ہے
بن موسم کے برسات ہے
پل بر کی اداسی کے لئے
میرے دل کی کرچیاں لیتی جا
جا کہہ دے چمکتے ستاروں سے
آسماں کو چومتے کوہساروں سے
نا ہی کوئی زندگی کی آس رکھتا ہے
نا ہی کوئی کسی کا ساتھ چاہتا ہے
بس اداس ہی اداس رہتا ہے
میرا اتنا سا پیغام لیتی جا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






