بابا مجھ کو ڈر لگتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: By: sumera ataria, GUDDUبابا مجھ کو ڈر لگتا ھے
بابا میری مس نے کھا ھے
کل سے اب اسکول کے بچے گھر میں رھیں گے
مینے سنا ھے اک بڑے سے
کالی مونچھوں والے“انکل“
بچوں کو ڈرائیں گے
بم لگا کر آئیں گے
بھول گئی میں نام اس کا
شائد دھشتگرد کھا تھا
بابا کیوں ماریں گے ھم کو؟؟؟
ھم سے کیا کوئی بھول ھوئی ھے؟؟؟
ھم سے کیوں ناراض ھیں انکل؟؟؟
بابا ان گڑیا دے دوں؟؟؟
یا پھر رنگوں والی
یاد ھے نا وہ نیلی ڈبیا؟؟؟
میری پچھلی سالگرہ پر
مجھ کو آپ نے لاکر دی تھی
اور میری وہ پیاری پونی
ریڈ کلر کی تتلی والی
وہ بھی دے دوں؟؟؟
پھر تو نھیں مارے گے مجھ کو؟؟؟
یاد ھے بابا ایک دفعا جب
مجھ کو ھاتھ پر چوٹ لگی تھی
بھت زیادہ درد ھوا تھا
تھوڑا سا خونبھی نکلا تھا
بھت زیادہ روئی تھی میں
کیا یے بم بھت بڑا ھوتا ھے؟؟؟
بھت زیادہ چوٹ لگے گی؟؟؟
درد بھی شاید زیادہ ھو گا؟؟؟
بابا مجھ کو ڈر لگتا ھے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






