بات تو یہ ہے کہ یہ بات ہے سچائی کی
Poet: UA By: UA, Lahoreبات تو یہ ہے کہ یہ بات ہے سچائی کی
اسے پرواہ سدا سے ہی رہی رسوائی کی
وہ ہمیشہ گریزاں دل کی بات کہنے سے رہا
یہ اک عادرت رہی بس اس میں کج ادائی کی
بڑی شدت سے وہ اکثر مجھے محسوس کرتا ہے
مگر کہتا نہیں مجھ سے کبھی حالت تنہائی کی
وہ اکثر سوچتا تو ہے مجھے دل کی کہی کہہ دے
مگر کہتا نہیں اس کو فکر ہے جگ ہنسائی کی
اسے ہر دم زمانے کے ستم کا خدشہ رہتا ہے
شکایت کرتا ہے مجھ سے وہ میری دلربائی کی
کاش ایسا ہو کوئی جو میری طرح سے سوچے
گواہی دینا چاہے جو سدا دل کی سچائی کی
میرے دل جب دعا کرنا تو بس اتنی دعا کرنا
کرے جو بات بھی عظمٰی و ہو سب کی بھلائی کی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






