بات نہ کرو مجھ سے یوں خود کو برباد نہ کرو تم
Poet: M.Masood By: M.Masood, Nottinghamبات نہ کرو مجھ سے یوں خود کو برباد نہ کرو تم
بُھول جاو تم مجھے اب مجھ کو یاد نہ کرو تم
نہیں ہو سکتا یہ میرے ہمدم ممکن ہی نہیں
ادھوری رہ جائیں دعائیں ایسی مراد نہ کرو تم
اپنے وعدے پر رہو قیام اور انتظار کرو تم
وقت بے وقت ہمدم ملنے کی فریاد نہ کرو تم
ٹوٹ کر بکھر جائیں گے ششے کی طرح ایک روز
خواب ہوتے ہیں جھوٹے خوابوں پر اعتبار نہ کرو تم
ہر خوشی میعادی غموں کا دستور ہے یہاں
بھول کے بیٹھے تم دل اتنا بھی شاد نہ کرو تم
کم ہو جائیں گی تکلیفیں لگا لو دل تم بھی
سجا لو محفلیں ہمدم تنہائ کو آباد نہ کرو تم
آرزو بس جائیں دلُ دماغ میں کچھ اِس طرح
تمناوں کو اپنی اتنا بھی آزاد نہ کرو تم
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






