بارش
Poet: بلبل سفیر)بختاور شہزادی) By: BAKHTAWAR SHEHZADI, GUJRATمنتشر تھا بارش میں تنہا کھڑا ہوا
مہبوت تیری یادوں میں الجھا ہوا
تیری یاد میں مخبوط الحواس بھی ہوا
منتشرالزہن تھا اختتام پزیر بھی ہوا
ہلاکت آفریں تھا وہ لمحہ بچھڑا ہوا
شششدر ہوں شاید, نہیں جانتا کیا ہوا
گمبیھر لہجے میں خود سے پوچھتا ہوا
بحث وتمحیص خوب کی کچھ حاصل نہ ہوا
کہیں ادھر اُدھرمیں پھرتا ہوا
بارش کو بے کیف محسوس کرتا ہوا
کہیں ہاتھ پھیلاۓ بن پروں کے اڑتا ہوا
منظر رم جم کا آنسووں کو چھپاتا ہوا
برگشتہ طالعی تھی میری نہ جانتا ہوا
سفاکانہ انداز تیری یادوں کا ہوتا ہوا
چہرہ آسماں کی جانب میں کرتا ہوا
ہار کے خود سے خود کو آزاد کرتا ہوا
تصور میں تجھے ہمیشہ پاتا ہوا
بارش کی طرح تجھے الوداع کرتا ہوا
نہیں جانتا, تھا کب لوٹ کے آنا ہوا
ہر بار تو جاتا ہے حیراں کرتا ہوا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






