بدلتے راشتے
Poet: Ijaz By: Ijaz Ahmed, Faisalabad (Dijkot)لہجے بھی بدل جاتے ہیں
رویے بھی بدل جاتے ہیں
برسوں سے جو چلے تھے پکڑ کر دامن جن
ہائے وہ لوگ بدل جاتے ہیں
راشتوں کی نزاکت کو تو خوب سمجھا اعجاز
نہ جانے کیوں سب نظریں ہی بدل جاتے ہیں
بدلتے موسم،بدلتی ہوائیں تو سنا میں نے
کیا خبر تھی کہ لوگ چہرے بھی بدل جاتے ہیں
کبھی محبت کا نام دے تو کبھی نفرت کا
ہر بار دھوکا دینے کے انداز بھی بدل جاتے ہیں
جب جانا ہی تھا سب نے ایک ہی منزل پر تو
کچھ دیر ساتھ چل کر راستے بھی بدل جاتے ہیں
اب نہ اُمید وفا رکھنا تم کسی سے میرے اپنوں
یہاں تو وفا کرنے کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں
مجھے غیروں نے لوٹا یہاں پیار کا دلاسہ دے کر
غیر تو غیر ،اپنے بھی بدل جاتے ہیں
جن کا ساتھ تھا کنارے پر
جب آئی منجدھار میں کشتی تو ارادے ہی بدل جاتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






