بربریت کی نہ دیکھی اک مثال
Poet: azharm By: azharm, doha بربریت کی نہ دیکھی اک مثال
شرم سے شیطاں کے عارض تھے گُلال
شرم خارج کو نہ کوئی آئی تھی
خوں بہا کر ہو گیا جیسے نہال
جانور تُجھ سے ہیں بہتر خارجی
ہاتھ بچوں پر اُٹھے کس کی مجال
کیوں محافظ جان پائے ہی نہیں
بھیڑئیے تھے انس کی پہنے تھے کھال
دفن کر دے بھیڑیوں کو، کھا نہ لیں
تیرے بچے، چل اُٹھا لے تُو کُدال
مانتا ہوں جو گئے ہیں، سب شہید
بھولنا مت کیوں ہوا لیکن وصال
ہیجڑوں کی فوج ہی بھرتی نہ کر
ڈھونڈھ بستی میں کہیں ہوں گے رجال
اس مُصیبت سے نکلنا ہے تو سُن
سانپ اپنی آستینوں سے نکال
دوسروں کی جاں بچانے چل پڑا
چل پلٹ اپنی کہیں پہلے سنبھال
آگہی اسباب کی ہے ناگزیر
قوم پر آیا تھا کیسے، کیوں زوال
کُچھ خُدا کا خوف کر اظہر کہیں
کیا بنے گا، آ گیا اُس کو جلال
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







