برسی جدائی کی
Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتانبرسی جدائی کی
مناتا ھوں میں گلشن میں
کہ جس میں میں نے تیرے ساتھ
کئی شامیں گزاری تھیں
کہ جس میں ساتھ رھنے کی
اکٹھے جینے مرنے کی
بہت سی قسمیں کھائیں تھیں
معاہدے ھم نے لکھے تھے
شجر کے خشک تنوں پر
گواہی جن کی دینے کو
سب کلیاں کھل سی اٹھی تھیں
مگر تم بچھڑے کچھ ایسے
کہ گلشن ویراں ھے تب سے
بہاریں لے گئے جب سے
میں ڈھونڈھوں تو کہاں ڈھونڈھوں
میں تم سے کس طرح پوچھوں
کہ کیسے بھولے تم یہ سب
کسے منصف کروں میں اب
شواہد مٹ چکے اب تو
گواہ بھی مر گئے کب سے
اور گلشن ویراں ھے تب سے
مگر میں پھر بھی جاتا ھوں
اسی گلشن میں، بس
ھر سال میں اک بار
وہاں برسی مناتا ھوں
اور وہ سیٹ جس پہ بیٹھتے تھے
دونوں دیوانے
جہاں پہ دفن ہیں میری وفا کے
سارے افسانے
میں اس پہ پھول چڑھاتا ھوں
اور یوں برسی مناتا ھوں
یعنی برسی جدائی کی
تمہاری بے وفائی کی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






