بس اک اُسی پہ تو پوری طرح عیاں ہوں میں
Poet: Shahid Hasrat By: Shahid Hasrat, Multanبس اک اُسی پہ تو پوری طرح عیاں ہوں میں
وہ کہہ رہا ہے مجھے رائیگاں، تو ہاں! ہوں میں
جسے دکھائی دوں، میری طرف اشارہ کرے
مجھے دکھائی نہیں دے رہا کہاں ہوں میں
میں خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ
تو بس نشان لگا دے جہاں جہاں ہوں میں
کسی نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو بھول گیا
مجھے کسی نے بتایا تو تھا، فلاں ہوں میں
ہر ایک شخص کو اپنی پڑی ہوئی ہے یہاں
مرا خیال ہے اپنوں کے درمیاں ہوں میں
کسی زبان کی چپ کے معانی جاننے ہیں؟
مجھے بتاؤ، خموشی کا ترجماں ہوں میں
میں کس سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط؟
جہاں سے کوئی گزرتا نہیں، وہاں ہوں میں
ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے
سڑک سے نیچے بنایا گیا مکاں ہوں میں
جبیں پہ ہجر کی تحریر درج کرنے میں
کسی پرانے قلم کی طرح رواں ہوں میں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






