بناء غلطی کے ہم خود کو مجرم تو نہیں کر سکتے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaاگر وہ کرتا نہیں ہم سے محبت
تو ہم کوئی زبردستی تو نہیں کر سکتے
یوں تو چلا رہے ہیں طوفانوں میں کشتی
لیکن طوفانوں سے دوستی تو نہیں کرسکتے
بڑا بے چین کر جاتی ہیں خاموشیاں ہمیں
اب ہم تنہائیوں سے دشمنی تو نہیں کر سکتے
وہ کتنا سادہ اور کتنا گہرا ہے
سرے عام ُاس کی مخالفت تو نہیں کر سکتے
نجانے صبر کی کس انتہا پر ہمیں دیکھنا چاہیتا ہے
بناء غلطی کے ہم خود کو مجرم تو نہیں کر سکتے
اک خطاء کی کیا اتنی ملنی تھی سزایئں ہمیں
جانتے اگر تو وہ خطاء ہم بھول سے بھی کر نہیں سکتے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






