بنام عشق دل توڑا گیا ہے
Poet: عزیز By: عزیز, Burewalaبنام عشق دل توڑا گیا ہے
بنا کر پھر مجھے ڈھایا گیا ہے
نصاب عشق میں شامل نہیں تھا
سبق جو تو مجھے سکھلا گیا ہے
ہمیں تو وصل میں بھی چین کب تھا
تمہیں تو ہجر بھی راس آ گیا ہے
جنوں بھی فلسفہ ہے عاشقی کا
مجھے اک نا سمجھ سمجھا گیا ہے
بڑی مشکل سے جچتی ہے کوئی شے
خدا کا شکر ہے تو بھا گیا ہے
میں تھا سلجھا ہوا معصوم لڑکا
لگا کر وہ گلے الجھا گیا ہے
میں اس کو بے وفا مانوں تو کیسے
نماز شب میں جو مانگا گیا ہے
مسافر خانہ ہے شاید مرا دل
وہ اپنے طور پر آیا گیا ہے
وہیں پہ منتظر ہوں مدتوں سے
مجھے وہ جس جگہ ٹھہرا گیا ہے
تم اس کے غم کا اندازہ لگاؤ
ندی کی سمت جو تنہا گیا ہے
اسے سوغات میں دے آیا ہستی
یہ جس دیوانے کا لاشہ گیا ہے
میں اس کو سارا پی جاؤں گا اک دن
کئی کشتی کو دریا کھا گیا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






