بھلا کیوں کر نہ ہو ں راتوں کو نیندیں بیقرار اُس کی
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIبھلا کیوں کر نہ ہو ں راتوں کو نیندیں بیقرار اُس کی
کبھی لہرا چکی ہو جس پہ زلفِ مشکبار اس کی
اُمید وصل پر ، دل کو فریب صبر کیا دیجے؟
ادا وحشی صفت اس کی ،نظر بیگانہ وار ، اس کی!
جفائے ناز کی میں نے شکایت ہائے کیوں کی تھی
مجھے جینے نہیں دیتی نگاہِ شرمسار اس کی!
محبت تھی، مگر یہ بیقراری تو نہ تھی پہلے!
الہٰی! آج کیوں یاد آتی ہے بے اختیار اُس کی
کوئی کیوں کر بھلادے، ہائے ایسے کی محبت کو
وفائیں، دلنواز اُس کی ! جفائیں خوشگوار اُس کی
ہمیں عرضِ تمنا کی جسارت ہو تو کیوں کر ہو؟
ادائیں فتنہ ریز اس کی! نگاہیں، حشر بار اُس کی
برا ہو، اس تغافل کا کہ تنگ آکر یہ کہتا ہوں
مجھے کیوں ہو گئی الفت ، مرے پروردگار اس کی؟
مئے الفت کے مستانوں کو میخانے سے کیا مطلب؟
ادا ، روحِ نشاط اُس کی! نطر، جانِ بہار اُس کی!
یہاں کیا دیکھتے ہو ، ناصحو! گھر میں دھرا کیا ہے
مرے دل کے کسی پردے میں ڈہونڈھو یادگار اس کی
تغافل کا گلہ، کس کو نہیں، کس کس کو سمجھاؤں
نگاہیں منتظر اُس کی! اُمیدیں، بیقرار اُس کی!
مجھے تو عشق پیچاں! ایسے بل کھانے نہ آتے تھے
بتا کیا تجھ پہ لہرائی ہے زلفِ مشکبار اُس کی؟
انہیں کوچوں میں کل اختر کو رسوا ہوتے دیکھا تھا
وہ آنکھیں اشکبار اُس کی، وہ باتیں دلنگار اُس کی
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






