بہار آئی ہے عالم میں عجب وحشت کا ساماں ہے
Poet: عالی گوپالوری By: مصدق رفیق, Karachiبہار آئی ہے عالم میں عجب وحشت کا ساماں ہے
بیاباں میں کبھی گھر ہے کبھی گھر میں بیاباں ہے
مری پابندیاں ہی جب مری آزادیاں ٹھہریں
تو گلشن ہو کہ صحرا سب مری نظروں میں زنداں ہے
ہر اک سرمست عرفاں ہے مگر ہے فرق بس اتنا
کہیں دریا میں قطرہ ہے کہیں قطرے میں طوفاں ہے
چمن میں پھول ہیں پھولوں پہ کچھ بکھرے ہوئے تنکے
مرا اجڑا نشیمن بھی گلستاں در گلستاں ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا دعا کس چیز کی مانگوں
کبھی جینے کی خواہش ہے کبھی مرنے کا ارماں ہے
کہاں کا قصہ ہے آخر یہ دل میں کیا سمائی ہے
پلٹ جاؤ پلٹ جاؤ ادھر گور غریباں ہے
نہ چھوڑا فرق کچھ وحشت نے میرے جیب و داماں میں
گریباں ہے جو دامن ہے جو دامن ہے گریباں ہے
رکی ہے لب پہ جاں آکر پہ اب تو موت بھی عالیؔ
عجب کچھ کشمکش میں ہے نہ مشکل ہے نہ آساں ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






