بہت انمول ہے یہ بے وجہ تولا نہ کرو
Poet: UA By: UA, Lahoreبہت انمول ہے یہ بے وجہ تولا نہ کرو
نہیں معلوم وفا کیا ہے تو بولا نہ کرو
بڑی معصوم چاہت ہے ہماری یاد رہے
میری وفا کو سرعام یوں رولا نہ کرو
سرد مہری سے اپنی موم جیسے پیکر کو
دیکھنا تم کہیں پھر برف کا گولہ نہ کرو
مجھے یقیں ہے وفا کا چلن سیکھا ئےگی
جفا کاروں بھی وفا کہ دل ہولا نہ کرو
جھیل آنکھوں میں جھانکنے کا حوصلہ تو کرو
نشے میں ہو نہ لگے اس طرح ڈولا نہ کرو
سکون میں جو ہے شبنم تو اسے رہنے دو
لہو رنگ نہ کرو دیکھو اسے شعلہ نہ کرو
کئی ٹکڑوں میں جو بٹا وجود ہے عظمٰی
سمیٹ کے رکھو اپنی گرہیں کھولا نہ کرو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






