بہت طویل انتظار دے رہے ہو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجانے انجانے میں سہی مگر
بہت طویل انتظار دے رہے ہو
جام کو رکھ کے سامنے
پیاسے کو اور پیاس دے رہے ہو
میرے سامنے منزل ہیں اور تم
راہوں میں اک نیا دریا دے رہے ہو
کیا رکھا ہیں خوابوں میں جو
بار بار مجھے سونے کا پیغام دے رہے ہو
اتنا صبر نہیں مجھ میں جاناں
جو آخری نیزے پے پہلا دیدار دے رہے ہو
میں کہتی نہیں کچھ پر حقیقت ہے
تم تحفے میں مجھے آزماشیوں کی دکان دے رہے ہو
یہ کیسی ہیں بے قراری دل میں
جو دعا کے ساتھ ساتھ اک سزا دے رہے ہو
کیوں نہ جلے رات بھر چاندی
چاند کو سامنے لا کر بادلوں کی آڑ دے رہے ہو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






