تب تم بہت یاد آتے ھو
Poet: شاہین مغل By: شاہین مغل, Gujranwala شام کے سرمئی اندھیرں میں
جب !پرندے چہچہا تے ھیں
صبا کےنرم نرم جھونکوں سے
جب ! پتے تھر تھراتے ھیں
تب تم بہت یاد آتے ھو
پھولوں کی حسیں وادیوں میں
جب ! تتلیاں گنگناتی ھیں
صبح کی مست مست ہوائیں
جب! دل کش راگ گا تی ھیں
تب تم بہت یاد آتے ھو
ہوا کوئی خزاں کا پتا
جب اپنے سنگ اڑا لے جاتی ھے
بارش کی گرتی بوند بوند
جب زمیں کی پیاس بجھا تی ھے
تب تم بہت یاد آتے ھو
چاند ! اپنی چاندنی سے
جب چار سو سحر پھیلاتا ھے
پھولوں کی مہکی مہکی شبنم میں
جب کوئی بھنورا جھوم جاتا ھے
تب تم بہت یاد آتے ھو
پتوں کی سر سراہٹ ، سریلے
جب اپنے راگ سناتی ھے
شاھیں! آنکھ نم نم ھو جاتی ھے
جب کوئل گیت وصل کے گاتی ھے
تب تم بہت یاد آتے ھو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






