تحمل
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang City (Punjab --Pakistan)پی کر خون کے آ نسو میں نے
دکھوں کے ساتھ نباہ کیا
تجھے تو ظلمتِ مجہول نے تباہ کیا
ساتا روہن جو تیرے گرد منڈلاتے رہتے تھے
انھی کی ریشہ دوانیوں نے تجھے
ہر لمحہ گمراہ کیا
کسی کے ساتھ تو نے کب نباہ کیا
جو زخم دل پر لگے سہہ لیے پر آہ نہ کی
تیرا ضمیر تو مردہ تھا اے ابنِ شقی
تمھاری خست و وحشت کو دیکھ کر میں نے
سمجھ لیا تھا کہ متفنی ہے تیری فطرت بھی
تیری جہالت مآبی کے تذکرے ہوں گے
تاریخ لکھے گی حرف سیاہ میں سب کچھ
تمھارے سبز قدم نے چمن کو لوٹ لیا
تجھے یہ زعم کہ طاقت ہے تیری لامحدود
فرعون اور نمرود کے انجام کو بھلا ڈالا
میں لوٹ آیا ہوں پھر اپنے کنجِ عزلت میں
تمھارے انتقام کے باعث جو مل گئی اسی نکبت میں
تمھارے پیچھے زمانے کی ہاہا کار ہوگی
جو قبر میں بھی وبال ہوگی تیرے لیے
تمھارے درپئے مظلوم کی پکار ہوگی
تیرا وجود ہی دنیا میں ننگ ہوجائے
تجھ پہ زیست کا عرصہ ہی تنگ ہو جائے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






