ترکِ الفت
Poet: (بختاور شہزادی(بلبل سفیر By: BAKHTAWAR SHEHZADI, GUJRATآنکھوں میں اشکوں کی صداقت ہے میرے
بھلے ہی ترکِ الفت کا کہ آئے ہیں تجھے
تجھ سے جدائی کا اندیشہ بھی رہا ہے مجھے
اور نہیں تو بیاض میں پا لوں گا تجھے
درشتی سے بات کا شعار بھی ہے مجھے
بھلے ہی کہ دو روش بدل گئے ہیں تیرے
زخم و مرہم بھول جاتے ہیں مجھے
دمِ تحریر رکھتے ہیں جب بھی ہم تجھے
کسک دل میں باقی رہے گی ہاں میرے
دے دیں گے دارو دیوان بھی ہم تجھے
پاس رکھے جو, تیری خوشبو سے لگاؤ ہو گیا تھا مجھے
وہ گلاب وہ کیسر بھی دے دیں گے ہم تجھے
رمَق باقی ہے, اک آسرا تنہائی کا ہے مجھے
گرامی نامہ جلد ہی مل جائے گا تجھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






