تضمین بر نعت شریف
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi تضمین
بر نعت نابغہء روزگار، مجدد دین و ملت، کشتہ ء عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فاضل بریلوی حضرت مولوی احمد رضا خان قادری قدس سرہ العزیز
ازل کی رونق ، ابد کا جلوہ رخ رسالت مآب میں ہے
نظر جو پیاسی تو روح تشنہ ، ہمارا دل اضطراب میں ہے
بھٹک رہی ہے یہ قوم کب سے ، یہ کارواں اک سراب میں ہے
اٹھا تو پردہ، دکھا دو چہرا کہ نور باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
کرم نشاں ہے ، عطا حوالا ، کبھی کسی کا کہا نہ ٹالا
بنے سہارا ، دیا دلاسہ ، مصیبتوں سے ہمیں نکالا
حسیں مقدر ہے بخت اعلٰی ، اسی سے ہستی میں ہے اجالا
جلی جلی بو سے اس کی پیدا، ہے سوزش چشم والا
کباب آہو میں بھی نہ پایا ، مزا جو دل کے کباب میں ہے
صبا کی رفتار کیا بیاں ہو، وہی ہے شوخی، وہی پھبن ہے
کل چٹک کر جو مسکرائی ، انھیں کے لہجے کا بانکپن ہے
کھلی جو زلف نبی کہیں پر تو ہیچ پھر نافہء ختن ہے
انھیں کی بو مایہء سمن ہے، انھیں کا جلوہ چمن چمن ہے
انھیں سے گلشن مہک رہے ہیں، انھیں کی رنگت گلاب میں ہے
فلک کے سارے یہ ماہ و اختر، ہیں اک نشان قدم نبی کا
خدا نے بخشا ہے دو جہاں میں ، تجھی کو مسند شہنشہی کا
اگر نہ ہوتا سہارا تیرا ، تو مر گیا ہوتا میں کبھی کا
تری جلو میں ہے ماہ طیبہ ! ہلال ہر مرگ و زندگی کا
حیات جاں کا رکاب میں ہے، ممات اعدا کا ڈاب میں ہے
انھی کے خوان کرم کا بے شک ، جہاں میں کھاتے ہیں سب نوالا
پڑی ہے سر پر جہاں مصیبت ، تو کام آیا وہی حوالا
انھی نے انساں کو رنج و غم میں قدم قدم پر دیا سنبھالا
سیہ لباسان دار دنیا و سبز پوشان عرش اعلٰی
ہر اک ہے ان کے کرم کا پیاسا کہ فیض ان کی جناب میں ہے
ہے رحمتوں کا نزول جن سے ، کھلے ہیں باب عقول جن سے
ہے جن کے دم سے چمن کی عزت، ہیں سور سارے ببول جن سے
بنے ہیں سارے اصول جن سے ، دعا ہو ہر اک قبول جن سے
وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل ! یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
یہی ہے باب عطا و رحمت ، یہاں پہ دوں صبح و شام دستک
نصیب سوئے ہوئے ہیں میرے، جگا دو قسمت کبھی اچانک
نڈھال غم سے ہوں چور چور اب ، ستم اٹھاتے اٹھاتے بے شک
جلی ہے سوز جگر سے جاں تک ، ہے طالب جلوہء مبارک
دکھا دو وہ لب کہ آب حیواں کا لطف جن کے خطاب میں ہے
ہے گور اندھیری ، پڑا ہوں تنہا، خدارا آ کے مری مدد کر
مکاں ہے تربت ، متاع پتھر ، کفن ہے پوشاک ، خاک بستر
نہ کوئی مونس نہ کوئی محرم ، عجب ہے ویرانیوں کا منظر
کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر ، نہ کوئی حامی ، نہ کوئی یاور
بتا دو آ کر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے
جو تھے جہاں کے خزانے سارے ، عطا کئے ہیں اسے خدا نے
وہ ایسا داتا ، وہ ایسا قاسم ، کرم کے جس کے نہیں ٹھکانے
خوشی مناؤ غریبو ! مل کر، وہ آیا ہے رحمتیں لٹانے
کریم ایسا ملا کہ جس کے کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے
بتاؤ اے مفلسو ! کہ پھر کیوں تمھارا دل اضراب میں ہے
یہ دور ہے بد عقیدگی کا ، بلائیں چاروں طرف ہیں چھائیں
کہ عاشقوں نے قدم قدم پر بٰن زخم کھائے، سزائیں پائیں
مدد کا لمحہ ہے میرے آقا ! اے میرے صاحب ، اے میرے سائیں !
گنہ کی تاریکیاں یہ چھائیں، امنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں
خدا کے خورشید ! مہر فرما کہ ذرہ بس اضطراب میں ہے
حسن ، حسین و بتول و حیدر کے نام نامی کی لاج رکھنا
میں نام لیوا ہوں ان کا شاہا ! اٹھے نہ عیبوں سے میرے پردا
یہی تمنا ، یہی گزارش اب اور رومی کو آرزو کیا ؟
کریم ! اپنے کرم کا صدقہ ، لئیم بے قدر کو نہ شرما
تو اور رضا سے حساب لینا، رضا بھی کوئی حساب میں ہے؟
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






