تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اتار دو
Poet: By: AAZAD ALI, HUB CHOWKIتمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اتار دو ۔۔۔
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو !
مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں میرے خال و خد۔۔۔
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو میرے سارے زنگ اتار دو !
کسی اور کو میرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ ۔۔۔
میں بکھر گیا ہوں سمیٹ لو ، میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو !
میری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے جدائیوں کے عزاب نے
میرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا میری دھڑکنوں کو قرار دو !
تمہیں صبح کیسی لگی کہو میری خواہشوں کے دیار کی ۔۔۔
جو بھلے لگی تو یہیں رہو اسے چاہتوں سے نکھار دو !
وہاں گھر میں کون ہے منتطر کہ ہو فکر دیر سویر کی ۔۔۔
بڑی مختصر سی یہ رات ہے اسے چاندنی میں گزار دو !
کوئی بات کرنی ہے چاند سے، کسی شاخسار کی اوٹ میں۔۔
مجھے راستے میں یہیں کہیں کسی کنج گل میں اتار دو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






