تم اپنے آپ سے مایوس کیوں ہو
Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer, Karachiتم اپنے آپ سے مایوس کیوں ہو
اس زندگی سے نا خوش کیوں ہو
آس پاس تم دیکھتی کیوں نہیں
خوش رہنے کے بہانے ڈھونڈتی کیوں نہیں
تمہیں دیکھ کر سب پریشان ہوتے ہیں
تمہاری حالت پر فکر مند ہوتے ہیں
تم نے اپنی زندگی کو شائد محدود کرلیا
خدا کی نعمتوں سے اپنے کو دور کرلیا
پگلی مایوسی تو کفر ہے
خدا کی نعمتوں سے انکاری ہے
چلو آج تم خوش ہوجاؤ
اپنے آپ کو دیکھ کر مطمئین ہوجاؤ
مایوسی کی باتیں چھوڑ کر مسکرا جاؤ
جو مل گیا اس پر خوش ہوجاؤ
دیکھو ملتا نہیں سب کچھ سب کو
کم از کم میرے لیئے خوش ہوجاؤ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






