تم بدل گئے ہو
Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujratمیری سُر ساز کی ملکہ میری سانسوں کی ہوا
تم بدل گئے ہو
کِس کے پیار میں آگئے ہو
کِس کی محبت میں پھس گئے ہو
تم بدل گئے ہو
میری باتیں میرا ہسنا آخرکیوں نہیں گوارا
کیوں مجھ سے بچھڑ رہے ہو
تم بدل گیے ہو
وہ وعدے وہ قسمیں شاید کہ جھوٹ تھی
کیوں راستے سے تم بچھڑ رہے ہو
تم بدل رہے ہو
تیرے ہاتھ ہیں کیوں رنگے ہوئے
کِس کا عشق کِس کا خون پی رہے ہو
تم بدل گئے ہو
نہ وہم تھا نہ گُماں تھا شام بھی آئے گئی
کِس سِمت نِکل گئے ہو
تم بدل گئے ہو
میرے اشک بے معانی میرا عشق بے معانی
پتھر ہو گئے ہو
تم بدل گئے ہو
سنو! شاید کسی محبت کا نام لیتے تھے
اے محبت کہاں ہو تم
تم بدل گئے ہو
سنو! تم کوئی وعدہ نِبانے کی بات کرتے تھے
اب بات سےنفیس مُکر گئے ہو
تم بدل گئے ہو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






