تم نے کب مجھ سے ملنا گوارا کیا
Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتانتم نے کب مجھ سے ملنا گوارا کیا
میں نے جب کبھی تم کو اشارہ کیا
پہلی بار ہی ہنس کر مخاطب کیا
تم نے کب یہ کرم پھر دوبارہ کیا
تیری مدح سرائی میں زلفوں کو شب
اور آنکھوں کو تیری ستارہ کیا
خود ہی چھوڑا ہمیں اس رہ عشق پر
نام بدنام بھی پھر ہمارا کیا
مجھ کو تیری وفا نے نکما کیا
بے وفائی نے مجھ کو آوارہ کیا
تیرے کہنے پہ ہی تو اے قاتل میرے
اس دنیا سے میں نے کنارہ کیا
نیند بھی ساتھ چھوڑنے لگی جب میرا
تیری یادوں کو ہی پھر سہارا کیا
روبرو میرے چشم تصور میں تم
چلو دل نے تو تیرا نظارہ کیا
امن ہمدم کو ئی جب مجھے نہ ملا
اپنےآپ میں ہی پھر گزارا کیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






