تم کو نا چاہتے ہوئے بھی
Poet: Ambrina Dar By: Ambrina Dar, Jhelumتم کو نا چاہتے ہوئے بھی بہت چاہتے ہیں ہم
نفرت کی آگ میں محبت کے پھول کھلاتے ہیں ہم
تو لاکھ رشتے ناتوں کی زنجیروں کو توڑ دالے
مگر دشمنی کی تلخ راہوں پر دوستی نبھاتے ہیں ہم
ریگستان کے ٹیلوں پر جنگلی پھول بھی کھلتے ہیں
کانٹوں کو پھول سمجھ کر گلے سے لگاتے ہیں ہم
تم نے جو نا امیدی کے اندھیرے چہرے پر سجا رکھ ہیں
ان بجھے ہوے چراغوں کو پھرسے جلاتے ہیں ہم
کچھ حاصل نہ ہو سکے گا اِن کھوکھلی سیپیوں سے
اے جانِ وفا! تیری دوستی کو خوشبو سے سجاتے ہیں ہم
ہم تجھ کو گلدان میں نہیں دل کے آئینے میں رکھتے ہیں
تو پھر کاغذی پھولوں کو کیوں نہیں اپناتے ہیں ہم
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL







