تم یاد آتے ہو
Poet: محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ By: Mohammed Masood, Nottinghamجب چراغوں کو بجھاتا ہوں تم یاد آتے ہو
خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو
رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر
کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو
کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے
سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم یاد آتے ہو
لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے
وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو
ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک
اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو
کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر
جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو
کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا
نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو
مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی
رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






